حدیث نمبر: 37410
٣٧٤١٠ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن (أبي المحجل) (١) عن ابن عمران بن حطان عن أبيه قال: قال أبو ذر: الصاحب الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من صاحب السوء، (ومملي) (٢) الخير خير من الساكت، والساكت خير من (مملي) (٣) الشر، والأمانة خير من الخاتم (٤)، والخاتم خير من ظن السوء (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حطان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ساتھی، تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی، برے ساتھی سے بہتر ہے اور خیر کا املاء کروانے والا ساکت سے بہتر ہے اور ساکت، شر کے املاء کروانے والے سے بہتر ہے۔ اور امانت، خاتم سے بہتر ہے اور خاتم برے گمان سے بہتر ہے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ]: (أبي الحجل)، وفي [ع]: (ابن الحجل).
(٢) في [س]: (وعملي).
(٣) في [س]: (وعملي).
(٤) العلامة التي يقفل بها الحساب للأمن من التزوير.