٣٧٤٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عمر بن قيس عن عمرو بن أبي قرة الكندي قال: عرض أبي على سلمان أخته (أن يزوجه، فأبى) (١) وزوجه مولاة له يقال (لها) (٢): (بُقَيْرَة) (٣)، قال: فبلغ أبا قرة أنه كان بين حذيفة وسلمان شيء، فأتاه يطلبه فأخبرأنه في مبقلة له، فتوجه إليه فلقيه معه زنبيل فيه بقل، قد أدخل عصاه في عروة الزنبيل، وهو على عاتقه (٤).حضرت عمرو بن ابی قرہ کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے حضرت سلمان کو یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی بہن سے شادی کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اپنی آزا دکردہ لونڈی جس کا نام بقیرہ تھا اس سے شادی کرلی۔ راوی کہتے ہیں ابوقرہ کو یہ بات پہنچی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان کے درمیان کوئی معاملہ تھا۔ چناچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سلمان کے پاس ان کو بلانے آئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی سبزیوں کے اگانے کی جگہ میں ہیں چناچہ وہ اس طرف گئے تو وہ ان سے ملے۔ ان کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں سبزی تھی۔ اپنی لاٹھی کو انہوں نے ٹوکری کے کڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ لاٹھی ان کی گردن پر تھی۔