٣٧٤٠٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن شبيل عن طارق بن شهاب قال: كان لي أخ أكبر مني يكنى أبا عزرة، وكان يكثر ذكر سلمان، فكنت (أشتهي) (١) لقاءه لكثرة ذكر أخي إياه، قال: فقال لي ذات ⦗٣٨١⦘ يوم: هل لك في (أبي عبد اللَّه؟) (٢) (قد نزل) (٣) القادسية، قال: وكان سلمان إذا قدم من الغزو نزل القادسية، وإذا قدم من الحج نزل المدائن غازيًا، قال: قلت: نعم، قال: فانطلقنا حتى دخلنا عليه (في) (٤) بيت بالقادسية، فإذا هو جالس، بين (رجليه) (٥) خرقة، (وهو) (٦) يخيط زنبيلا أو يدبغ إهابًا، قال: فسلمنا عليه وجلسنا، قال: (فقال) (٧): يا ابن أخي عليك (بالقصد) (٨) فإنه أبلغ (٩).حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک مجھ سے بڑا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعزرہ تھی۔ وہ حضرت سلمان کا ذکر بڑی کثرت سے کرتا تھا۔ تو اپنے بھائی سے حضرت سلمان کا بہت زیادہ ذکر سن کر مجھے آپ سے ملاقات کا شوق تھا۔ راوی کہتے ہیں ایک دن میرے بھائی نے مجھے کہا کیا تمہیں ابوعبداللہ سے ملنے کا شوق ہے ؟ وہ قادسیہ مقام میں فروکش ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت سلمان جب جہاد سے واپس آتے تو قادسیہ میں اترتے اور جب حج سے واپس آتے تو مدائن میں پڑاؤ ڈالتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : ہاں (شوق ہے) ۔ راوی کہتے ہیں پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم قادسیہ میں ان کے گھر میں اترے۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے ایک کپڑے کا ٹکڑا تھا۔ وہ ٹوکری سی رہے تھے یا چمڑے کو دباغت دے رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا : اے بھتیجے ! تم پر ارادہ لازم ہے کیونکہ یہ مؤثر ہے۔