حدیث نمبر: 37395
٣٧٣٩٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش (عن شمر) (١) عن شهر بن حوشب قال: جاء سلمان إلى أبي الدرداء فلم يجده، فسلم على أم الدرداء وقال: أين أخي؟ قالت: في المسجد، وعليه عباءة له قطوانية، فألقت إليه خلق وسادة، فأبى أن يجلس عليها ولوى عمامته فطرحها فجلس (عليها) (٢)، قال: فجاء أبو الدرداء معلقا لحما بدرهمين، فقامت أم الدرداء فطبخته وخبزت، ثم جاءت بالطعام وأبو الدرداء صائم، فقال سلمان: من يأكل معي؟ فقال: تأكل معك أم الدرداء، فلم يدعه حتى أفطر، فقال سلمان لأم الدرداء ورآها سيئة الهيئة: مالك؟ قالت: إن أخاك لا يزيد النساء، يصوم النهار ويقوم الليل، فبات عنده، فجعل أبو الدرداء يزيد أن يقوم فيحبسه، حتى كان قبل الفجر فقام (فتوضأ) (٣) وصلى ركعات، (٤) فقال له أبو الدرداء: (حبستني) (٥) عن صلاتي، فقال له سلمان: صل ونم، وصم وأفطر، فإن لأهلك عليك حقًا، ولعينيك عليك حقًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان، حضرت ابوالدرداء کے ہاں تشریف لے گئے لیکن انہیں موجود نہ پایا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو سلام کیا اور کہا : میرا بھائی کہاں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مسجد میں اور ان پر اہلیہ کا قطوانی چوغہ تھا۔ ام درداء رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پرانا تکیہ پھینکا۔ انہوں نے اس پر بیٹھنے سے انکار کردیا اور اپنے عمامہ کو اتارا اور اس کو نیچے ڈال کر اس پر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ دو درہموں کا گوشت اٹھائے ہوئے۔ چناچہ حضرت ام درداء کھڑی ہوئیں انہوں نے اس کو پکایا اور روٹی پکائی۔ پھر کھانا لے کر آئی۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ حضرت سلمان نے کہا میرے ساتھ کون کھائے گا ؟ انہوں نے کہا تمہارے ساتھ ام درداء کھائیں گی۔ حضرت سلمان نے ان کو روزہ افطار کروائے بغیر نہ چھوڑا۔ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ام درداء سے کہا۔ آپ نے ان کی خستہ حالت دیکھی تھی۔ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ آپ کا بھائی عورتوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ چناچہ آپ نے ان کے ہاں رات گزاری۔ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاٹھنے کا ارادہ کرتے تو حضرت سلمان ان کو روک دیتے یہاں تک کہ فجر سے پہلے کا وقت ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے وضو کیا اور چند رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابوالدراء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ آپ نے مجھے میری نماز سے روکا ہے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے اہل خانہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (عليهما).
(٣) في [ب]: (وتوظأ).
(٤) في [جـ، ع]: زيادة (قال).
(٥) في [ع]: (أحبستني).
(٦) منقطع؛ شهر لا يروي عن سلمان وأبي الدرداء، أخرجه الطبراني في الأوسط (٧٦٣٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37395، ترقيم محمد عوامة 35813)