٣٧٣٧٩ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو بن ميمون عن أبيه قال: دخل ابن عمر في أناس من أصحابه على عبد اللَّه بن عامر بن كريز وهو مريض (يرون أنه يموت) (١)، فقالوا له: أبشر، فإنك قد (حفرت) (٢) الحياض برفات، يشرع فيها حاج بيت اللَّه، وحفرت الآبار بالفلوات، قال: وذكروا خصالا من خصال الخير، قال: فقالوا: إنا لنرجو للث خيرا إن شاء اللَّه، وابن عمر جالس لا يتكلم، فلما أبطأ عليه (بالكلام) (٣) قال: يا أبا عبد الرحمن ما تقول؟ فقال: إذا طابت (المكسبة) (٤) زكت النفقة، وسترد فتعلم (٥).حضرت میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عامر کے ہاں تشریف لے گئے جبکہ وہ بیمار تھے اور لوگوں کا خیال یہ تھا وہ مرجائیں گے۔ چناچہ لوگوں نے انہیں کہا تمہیں بشارت ہو کہ تم نے عرفات میں بہت سے حوض بنوائے ہیں جن سے بیت اللہ کے حاجی سیراب ہوں گے۔ اور آپ نے جنگلوں میں کنوے کھدوائے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے بہت سی خیر کی باتیں ذکر کردیں۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگ کہنے لگے۔ ان شاء اللہ ہمیں آپ کے لیے خیر کی امید ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما خاموش بیٹھے رہے۔ پھر بعد میں جب آپ نے کلام فرمایا : تو کہا اے ابوعبدالرحمن آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب کمائی پاکیزہ ہوتی ہے تو خرچ اچھا ہوتا ہے۔ ابو عنقریب تم وارد ہو گے تو پھر تم جان لوگے۔