حدیث نمبر: 37378
٣٧٣٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن نافع أن ابن عمر كان إذا قرأ القرآن كره أن يتكلم -أو لم يتكلم- حتى يفرغ مما يزيد، أو لم يتكلم حتى يفرغ إلا يوما كنت قد أخذت عليه المصحف وهو يقرأ فأتى على (الآية) (١) فقال: أتدري (فيم) (٢) أنزلت؟ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب قراءت کرتے تو کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے … یا فرمایا… فارغ ہونے تک اپنی مراد کی بات نہیں کرتے تھے۔ یا فرمایا … فارغ … ہونے تک کلام نہیں کرتے تھے۔ مگر ایک دن جب میں ان کے پاس مصحف لے کر بیٹھا تھا اور وہ قراءت کر رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہایک آیت پر پہنچے تو فرمایا : تمہیں معلوم ہے یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ “
حواشی
(١) أي: قوله تعالى: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ﴾ [البقرة: ٢٢٣].
(٢) في [هـ]: (فيما).