حدیث نمبر: 37345
٣٧٣٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن أنس قال: قدمت على أبي عبيدة بن الجراح فأنزلني في ناحية بيته، وامرأته في ناحية وبيننا ستر، فكان يحلب الناقة فيجيء بالإناء فيضعه في يدي، فقال له رجل من الطلقاء: أتنزل هذا (ناحية) (١) بيتك مع امرأتك؟ فقال: [(أراقب) (٢) به (غيَر) (٣)] (٤) من لو لقيته سليبا (لا ستأنى) (٥) على كل مركب (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے گھر کے کنارے میں ٹھہرایا۔ جبکہ ان کی بیوی ایک دوسرے کنارے میں تھیں۔ اور ہمارے درمیان ایک پردہ تھا۔ پس آپ اونٹنی کا دودھ نکالتے اور برتن میں لے کر آتے پھر اس کو میرے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ اس پر طلقاء میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر ٹھہراتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں اس آدمی کو مکمل طور پر پاکدامن سمجھتا ہوں۔
حواشی
(١) في [جـ]: (ناحه).
(٢) في [ب]: (أراكب).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (قبر)، وفي [ط، هـ]: (غير)، والمراد جعلت اللَّه عليه رقيبًا وهو سبحانه قادر على تغيير الأحوال.
(٤) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٥) في [جـ، س]: (ساءني).