حدیث نمبر: 37342
٣٧٣٤٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام عن أبيه قال: دخل عمر بن الخطاب على أبي عبيدة بن الجراح فإذا هو مضطجع على (طنفسة) (١) (رحله) (٢) متوسد الحقيبة، قال: (فقال) (٣) له عمر: ألا (اتخذت) (٤) (ما اتخذت) (٥) أصحابك؟ فقال: يا أمير المؤمنين هذا يبلغني (المقيل) (٦) (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب، حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح اپنے کجاوہ پر لیٹے ہوئے تھیلے کو تکیہ بنائے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں انہیں حضرت عمر نے کہا آپ ان نئی چیزوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے جنھیں آپ کے ساتھی استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرا یہ بستر بھی میری نیند پوری کردیتا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (طفسه).
(٢) في [أ، ب]: (رجله).
(٣) في [جـ]: (قال).
(٤) في [أ، ب، ط، ع، هـ]: (تحدث)، وانظر: الحلية ومرقاة المفاتيح ١١/ ٢٧٤، وصفة الصفوة ١/ ٣٦٨، والإصابة ٣/ ٥٨٩، وسير أعلام النبلاء ١/ ١٦.
(٥) في [ع]: (ما تحدث)، وفي [ط، هـ]: (أحدث)، وفي [أ، ب، س]: (ما يحدث).
(٦) في [س]: (المقبل).
(٧) منقطع؛ عروة لم يدرك عمر، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٦٢٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٠١، وابن عساكر ٢٥/ ٤٨٠، والبيهقي في الشعب (١٠٦٢٧).