حدیث نمبر: 37331
٣٧٣٣١ - حدثنا غندر عن شعبة عن (يعلى) (١) بن عطاء قال: حدثني (تميم) (٢) بن غيلان بن سلمة قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء وهو مريض فقال: يا أبا الدرداء إنك قد أصبحت على جناح فراق (الدنيا) (٣)، فمرني بأمر ينفعني اللَّه (به) (٤)، وأذكرك به، (فقال) (٥): إنك من أمة معافاة، فأقم الصلاة وأد الزكاة إن كان لك مال، وصم رمضان واجتنب الفواحش، ثم أبشر، فأعاد الرجل على أبي الدرداء فقال له أبو الدرداء: مثل ذلك. فنفصن الرجل رداءه ثم قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ﴾ إلى قوله: ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ [البقرة: ١٥٩] فقال أبو الدرداء: عليّ بالرجل، (فجاء) (٦) فقال أبو الدرداء: ما قلت؟ قال: كنت رجلًا معلما، عندك من العلم ما ليس عندي، فأردت أن (تحدثني) (٧) بما ينفعني اللَّه به، فلم ترد عليّ إلا قولًا واحدًا، فقال له أبو الدرداء: اجلس ثم اعقل ما أقول لك: أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا عرض ذراعين في طول أربع أذرع، أقبل بك أهلك الذين كانوا لا يحبون فراقك وجلساؤك وإخوانك، فأتقنوا عليك (البنيان) (٨) وأكثروا عليك التراب، وتركوك (لمثل) (٩) ذلك، وجاءك ملكان أسودان أزرقان جعدان، اسماهما منكر ونكير، فأجلساك ثم سألاك: ما أنت وعلى ماذا ⦗٣٥٨⦘ كنت؟ (و) (١٠) ما تقول في هذا الرجل؟ فإن قلت: واللَّه ما أدري، سمعت الناس قالوا قولا فقلت قول الناس، فقد واللَّه رديت وهويت، وإن قلت: محمد رسول اللَّه ﷺ (١١)، أنزل اللَّه عليه كتابه فآمنت به وبما جاء به، فقد واللَّه (نجوت وهديت) (١٢)، ولن تستطيع ذلك إلا بتثبيت من اللَّه مع ما ترى من الشدة والتخويف، ثم أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا موضع قدميك، ويوم كان مقداره خمسين ألف سنة، (الناس فيه) (١٣) قيام لرب العالمين، ولا ظل إلا ظل عرش رب العالمين، وأدنيت الشمس، (فإن) (١٤) كنت من أهل الظل فقد -واللَّه- نجوت وهديت، وإن كنت من أهل الشمس فقد واللَّه رديت وهويت، ثم أين أنت من يوم (جيء) (١٥) بجهنم قد سدت ما بين الخافقين وقيل: لن تدخل الجنة حتى تخوض النار، فإن كان معك نور استقام بك الصراط فقد واللَّه نجوت وهديت، وإن لم يكن معك نور تشبثتْ بك بعض خطاطيف جهنم أو كلاليبها أو (شبابيثها) (١٦) فقد واللَّه رديت وهويت. فورب أبي الدرداء إنما أقول (حق) (١٧) فاعقل ما أقول (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت تمیم بن غیلان بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ! یقینا آؤ اس دنیا سے ایک کنارے پر ہو رہے ہیں پس آپ مجھے کوئی ایسا حکم دیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے اور میں آپ کو اس کے ذریعہ یاد رکھوں۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ایک درگزر کی ہوئی امت سے ہو۔ پس تم نماز قائم کرو۔ اگر تمہارے پاس مال ہے تو زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رمضان کا روزہ رکھو۔ اور فواحش سے اجتناب کرو پھر تمہیں بشارت ہے۔ اس آدمی نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بات دوبارہ کہی تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر ایسی بات کہی۔ اس پر اس آدمی نے اپنی چادر جھاڑی اور کہا : {إنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ } إِلَی قَوْلِہِ : { وَیَلْعَنَہُمُ اللاَّعِنُوْنَ } چناچہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس وہ آدمی آیا تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم نے کیا کہا ؟ اس آدمی نے کہا : آپ صاحب علم آدمی ہیں۔ آپ کے پاس وہ علم ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں گے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے گا لیکن آپ نے تو مجھے ایک ہی جواب دیا۔ اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا : بیٹھو اور جو بات میں تمہیں کہنے لگا ہوں اس کو سمجھو۔ تم اس دن کے بارے میں کہاں ہو جس دن تمہیں زمین سے صرف دو ہاتھ چوڑی اور چار ہاتھ لمبی زمین نصیب ہوگی۔ اور تمہیں تمہارے وہ اہل خانہ لے کر آئیں گے جو تمہاری جدائی پسند نہیں کرتے اور تمہارے وہ ہم مجلس اور بھائی لے کر آئیں گے جو تمہاری جدائی پسند نہیں کرتے۔ پس وہ تم پر اچھی عمارت بنا کر تم پر خوب مٹی ڈال دیں گے اور تمہیں { ذلک بمیتک } چھوڑ جائیں گے۔ اور تمہارے پاس دو گھنگریالے بالوں والے کالے، نیلے فرشتے آئیں گے۔ ان کے نام منکر اور نکیر ہوں گے۔ یہ دونوں تمہیں بٹھائیں گے پھر یہ دونوں تم سے پوچھیں گے تم کیا ہو ؟ اور تم کس دین پر تھے اور تم اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ پس اگر تو نے کہا : بخدا ! مجھے معلوم نہیں ہے۔ میں تو لوگوں کو سنتا تھا کہ وہ ایک بات کہتے تھے تو میں بھی لوگوں کی طرح کی بات کہتا تھا۔ تو تحقیق تو ہلاک و برباد ہوگیا۔ اور اگر تم نے یہ کہا : یہ اللہ کے رسول محمد ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اور میں ان پر ایمان لایا ہوں اور جو کچھ یہ لے کر آئے ہیں اس پر بھی ایمان لایا ہوں تو تحقیق تو نجات پا گیا اور راہ راست پا گیا۔ اور تم اس بات کی خدا کی طرف سے ثابت قدمی کے بغیر ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ تم شدت اور تخویف بھی دیکھ رہے ہو۔ پھر تم اس دن کے بارے میں کہاں ہو۔ جس دن تمہیں زمین میں سے صرف اپنے دو قدموں کے بقدر جگہ نصیب ہوگی اور یہ ایسا دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور رب العالمین کے عرش کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ اور سورج کو قریب کردیا جائے گا۔ پس اگر تو سایہ والوں میں سے ہوا تو پھر بخدا تو یقینا نجات پا گیا اور ہدایت پا گیا اور اگر تو دھوپ والوں میں سے ہوا تو پھر بخدا یقینا تو ہلاک و برباد ہوگیا۔ پھر تو اس دن کے بارے میں کہاں ہے جس دن جہنم کو لایا جائے گا جس نے دونوں اطراف … مشرق ومغرب … کو گھیر رکھا ہوگا اور کہا جائے گا کہ تو ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو جہنم کو عبور کرے پس اگر تیرے پاس نور ہوگا تو تو پل صراط پر سیدھا جائے گا۔ پھر تو تحقیق تو نجات پا گیا اور ہدایت حاصل کرگیا اور اگر تیرے پاس نور نہ ہوا تو تیرے ساتھ جہنم کی بعض ابابلیں یا جہنم کے کتے یا وہاں کی کوئی چمٹنے والی چیزیں چمٹ جائیں گی۔ تو پھر تحقیق تو ہلاک و برباد ہوجائے گا۔ ابوالدرداء کے رب کی قسم ! میں نے جو کچھ کہا ہے وہ برحق ہے۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کو سمجھو۔

حواشی
(١) في [جـ]: (يعلا).
(٢) في [ط]: (نعيم).
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [جـ]: (له).
(٥) في [جـ]: (قال).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ب]: (يحدثني).
(٨) في [س]: (البينات)، وفي [أ، ب]: (بنيان).
(٩) في [س]: (لمسلك)، وفي [ع]: (لملك)، وفي [ط، هـ]: (لمثلك).
(١٠) في [هـ]: (أو).
(١١) في [س] زيادة ﷺ.
(١٢) في [ع]: (هديت ونجوت).
(١٣) في [ع]: (فيه الناس).
(١٤) في [ع]: (وإن).
(١٥) في [جـ]: (يجيء).
(١٦) في [س، ع]: (شبابيتها).
(١٧) في [أ، جـ، س]: (لحق).
(١٨) مجهول؛ لجهالة تميم بن غيلان بن سلمة، أخرجه الخطابي في غريب الحديث ٢/ ٣٣٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37331
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37331، ترقيم محمد عوامة 35751)