٣٧٣٣٠ - حدثنا علي بن إسحاق عن (ابن) (١) مبارك عن عبد الرحمن بن يزيد (ابن) (٢) جابر قال: أخبرني إسماعيل بن عبيد اللَّه قال: حدثتني أم الدرداء أنه أغمي على أبي الدرداء فأفاق، فإذا بلال ابنه عنده، فقال: قم فأخرج عني، ثم قال: من يعمل (لمثل) (٣) مضجعي هذا؟ (من يعمل لمثل مضجعي هذا؟) (٤) من يعمل لمثل ساعتي هذه؟ ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ [الأنعام: ١١٠]، قالت: ثم يغمى عليه (فيلبث) (٥) لبثا ثم يفيق فيقول مثل ذلك، فلم يزل يرددها حتى قبض (٦).حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بےہوش ہوگئے پھر انہیں ہوش آیا تو ان کے بیٹے حضرت بلال ان کے پاس تھے۔ حضرت ابوالدرادء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اٹھو اور میرے پاس سے باہر چلے جاؤ۔ پھر فرمایا : میرے اس خواب گاہ کی طرح کس نے کام کیا ہے ؟ میری اس گھڑی کی طرح کس نے کام کیا ہے ؟ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ آپ کچھ دیر گزارتے پھر آپ کو افاقہ ہوتا اور آپ پھر یہی بات دہراتے۔ چناچہ آپ یہ بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کی جان قبض ہوگئی۔