٣٧٣٢٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن سالم بن أبي الجعد عن أبي الدرداء أنه قال: مالي أرى علماءكم يذهبون، وأرى جهالكم لا يتعلمون، اعلموا قبل أن يرفع العلم فإنّ رفعَ العلم ذهابُ العلماء، مالي أراكم تحرصون على ما تكفل لكم به، وتضيعون ما وكلتم به، لأنا أعلم بشراركم من البيطار بالخيل، هم الذين لا ⦗٣٥٦⦘ يأتون الصلاة إلا دبرًا، ولا يسمعون القرآن إلا هجرًا، ولا يعتق محررهم (١).حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہارے علماء کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جا رہے ہیں اور میں تمہارے جاہل لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ علم حاصل نہیں کرتے ؟ علم کے اٹھائے جانے سے قبل علم حاصل کرو کیونکہ علم کا اٹھنا علماء کا جانا ہے۔ مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کے بارے میں حریص دیکھتا ہوں جو تمہارے سپرد کی گئی ہیں ؟ میں تم میں شریر لوگوں کو اس سے زیادہ جانتا ہوں جتنا کہ جانوروں کا علاج کرنے والا گھوڑوں کو جانتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو وقت نکل جانے کے بعد پڑھتے ہیں اور قرآن مجید کو بےرخی کے ساتھ سنتے ہیں اور اپنے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔