حدیث نمبر: 37302
٣٧٣٠٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن رجاء بن (حيوة) (١) قال: جمع أبو الدرداء أهل دمشق فقال: اسمعوا من أخ لكم (ناصح) (٢): أتجمعون ما لا تأكلون، وتؤملون ما لا تدركون، وتبنون ما لا تسكنون، أين الذين كانوا من قبلكم، فجمعوا كثيرا وأملوا بعيدا وبنوا شديدا، فأصبح جمعهم بورا، وأصبح أملهم غرورا، وأصبحت ديارهم قبورا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رجاء بن حیوہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اہل دمشق کو جمع فرمایا پھر ارشاد فرمایا : اپنے خیر خواہ بھائی سے سن لو کیا تم وہ جمع کرتے ہو جس کو تم کھاؤ گے نہیں۔ اور تم اس چیز کی امید کرتے ہو جس کو تم پاؤ گے نہیں۔ اور تم وہ کچھ بناتے ہو جس میں تم نے رہنا نہیں ہے۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو تم سے پہلے تھے ؟ انہوں نے بہت کچھ جمع کیا اور دور دور کی امیدیں باندھیں۔ اور سخت (عمارتیں) بنائیں۔ پھر ان کی جمع کردہ چیزیں بیکار ہوگئیں اور ان کی امیدیں، دھوکہ ہوگئیں اور ان کے گھر قبور بن گئے۔

حواشی
(١) في [ع]: (حياة).
(٢) في [س]: (ناصحون).
(٣) منقطع؛ رجاء بن حيوة لم يسمع من أبي الدرداء، أخرجه ابن أبي حاتم (١٥٨٤٠)، وابن أبي الدنيا في قصر الأمل (٢٦٠)، والخطيب في تاريخ بغداد ٤/ ٩٥، وابن عساكر ٤٧/ ١٣٤، والبيهقي في الشعب (١٠٧٣٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37302
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37302، ترقيم محمد عوامة 35723)