حدیث نمبر: 37297
٣٧٢٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: ما شبهت ما غبر من (الدنيا) (١) إلا (الثغب) (٢) شرب صفوه وبقي كدره، ولا يزال ⦗٣٤٦⦘ أحدكم بخير ما اتقى اللَّه، وإذا (حاك) (٣) في صدره شيء أتي رجلا فشفاه منه، وأيم اللَّه (لأوشك) (٤) أن لا تجدوه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جس قدر دنیا گزر گئی ہے اس کی مثال اس کوہ دامن کی سی ہے جس کی صفائی ختم اور کدورت باقی ہو اور تم میں سے ایک جب تک اللہ سے ڈرے گا خیر پر ہوگا اور جب اس کے دل میں کوئی بات کھٹکے اور وہ آدمی کے پاس آئے اور اس سے شفا پالے۔ خدا کی قسم ! ہوسکتا ہے کہ تم اس کو نہ پاؤ۔
حواشی
(١) في [أ]: (الدني).
(٢) في [أ، ب]: (التغب)، وفي [جـ، ع]: (التعب)، وفي [هـ]: (بثغبه)، والمراد: ماء المطر النافع في الأرض.
(٣) في [ع]: (حال).
(٤) في [جـ]: (لأوشكن).