حدیث نمبر: 37296
٣٧٢٩٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: أتي عبد اللَّه بشراب فقال: أعطه علقمة قال: إني صائم ثم قال: (أعط) (١) الأسود، فقال: إني صائم حتى مر (بكلهم) (٢)، ثم أخذه فشربه ثم تلا هذه الآية: ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [النور: ٣٧] (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس کوئی مشروب لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مشروب علقمہ کو دے دو ۔ علقمہ نے کہا : میں روزے سے ہوں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مشروب اسود کو دے دو ۔ اسود نے کہا میں روزے سے ہوں۔ یہاں تک کہ سب لوگوں کے پاس سے وہ مشروب ہو آیا پھر آپ نے خود وہ مشروب پکڑا اور اس کو نوش فرمایا پھر یہ آیت پڑھی : { یَخَافُونَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیہِ الْقُلُوبُ وَالأَبْصَارُ }
حواشی
(١) في [جـ، ع]: (أعطه).
(٢) في [أ، ب]: (بهم).