٣٧٢٩٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن (خيثمة) (١) قال: قال عبد اللَّه: انظروا الناس عند (مضاجعهم) (٢)، فإذا رأيتم العبد يموت على ⦗٣٤٤⦘ خير ما ترونه فارجوا له الخير، وإذا رأيتموه يموت على شر ما ترونه فخافوا عليه، فإن العبد إذا كان شقيا وإن أعجب الناسَ بعضُ عمله قُيض له شيطان (فأرداه) (٣) وأهلكه حتى يدركه الشقاء الذي كتب عليه، وإذا كان (٤) سعيدا وإن كان الناس يكرهون بعض عمله (٥) قيض له ملك فأرشده وسدده حتى تدركه السعادة التي كتبت له (٦).حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : لوگوں کو ان کی خواب گاہوں کے پاس دیکھو۔ پس جب تم کسی بندے کو بہترین حالت پر مرتے دیکھو تو اس کے لیے خیر کی امید رکھو اور جب تم کسی بندے کو بدترین حالت میں مرتے دیکھو تو پھر تم اس پر خوف کرو۔ کیونکہ جب بدبخت ہوتا ہے … تو اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو متعجب کرتے ہیں … تو اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیا جاتا ہے وہ اس کو بہکاتا ہے اور ہلاکت میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ بدبختی اس کو پالیتی ہے جو اس کا مقدر ہوتی ہے اور جب بندہ خوش بخت ہوتا ہے … اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو ناپسند ہوتے ہیں … اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی راہنمائی کرتا ہے اور راہ راست پر لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو مقدر کی سعادت پالیتی ہے۔