حدیث نمبر: 37289
٣٧٢٨٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم البطين عن (عدسة) (١) (الطائي) (٢) قال: أُتي (عبد اللَّه) (٣) (بطير) (٤) (صيد) (٥) (بشراف) (٦) فقال عبد اللَّه: لوددت إني بحيث صيد هذا الطير، لا يكلمني بشر ولا أكلمه حتى ألقى اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عدسہ طائی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس مقام شراف سے شکار کردہ ایک پرندہ لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اس مقام پر رہوں جہاں اس پرندہ کو شکار کیا گیا ہے۔ نہ مجھ سے کوئی بشر کلام کرے اور نہ میں کسی بشر سے کلام کروں یہاں تک کہ میں اللہ سے مل جاؤں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عدلسة).
(٢) في [أ، ع]: (الطاي).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (يطير).
(٥) في [جـ]: (أصيد).
(٦) في [أ، ب، س، ع]: (بسراف)، وفي [جـ]: (سراف)، وشراف بئر بنجد.
(٧) مجهول؛ عدسة مقبول، أخرجه هناد (١٢٤٢)، والطبراني (٨٧٥٨)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٣، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٣)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (٩٩)، والخطابي في العزلة (٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37289
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37289، ترقيم محمد عوامة 35711)