حدیث نمبر: 37287
٣٧٢٨٧ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن أبي الحكم عن أبي وائل عن ابن مسعود قال: ما أحد من الناس يوم القيامة إلا (١) (يتمنى) (٢) أنه كان يأكل في الدنيا قوتًا، وما يضر أحدكم على أي حال أمسى وأصبح من الدنيا (أن لا) (٣) تكون في النفس (حزازة) (٤)؛ ولأن يعض أحدكم على جمرة حتى تطفأ خير من أن يقول لأمر قضاه اللَّه: (ليت) (٥) هذا لم يكن (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس بات کی خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں جو کچھ کھاتا تھا وہ قوت … زندگی بچانے کی مقدار کھانا … ہوتا اور تم میں سے کسی کو دنیا کی صبح وشام … جس حالت کی بھی ہو … نقصان نہیں دے گی اگر اس کے دل میں درد نہ ہو۔ اور تم میں سے کوئی انگارے کو پکڑے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ کام اس بات سے بہتر ہے کہ آدمی خدا کے کسی فیصلہ شدہ کام کے بارے میں یہ کہے : کاش کہ یہ نہ ہوتا۔
حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (إنه).
(٢) في [جـ]: (تمنا).
(٣) في [جـ]: (إلا أن).
(٤) في [هـ]: (مزازة)، وفي [س]: (خرازة).
(٥) في [ع]: (ليث).