حدیث نمبر: 37273
٣٧٢٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن زبيد بن الحارث عن مرة بن (شراحيل) (١) قال: قال عبد اللَّه: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [آل عمرن: ١٠٢]، (وحق تقاته) (٢) أن يطاع فلا يعصى، وأن يذكر فلا ينسى، وأن يشكر فلا يكفر، وإيتاء المال على حبه أن تؤتيه وأنت صحيح شحيح، تأمل العيش (وتخاف) (٣) الفقر، وفضل صلاة الليل على صلاة النهار كفضل صدقة السر على صدقة العلانية (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ بن شراحیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : { اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ } اور حق تقاتہ یہ ہے کہ فرماں برداری کی جائے۔ نافرمانی نہ کی جائے۔ یاد کیا جائے، بھلایا نہ جائے اور شکر کیا جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔ اور مال کا محبت کے باوجود دینا یہ ہے کہ تم مال کو اس حالت میں خرچ کرو جبکہ تم صحت مند، تندرست ہو، تم عیش کرنا چاہتے ہو اور فقر سے ڈرتے ہو اور رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسی ہے جیسے مخفی صدقہ کی اعلانیہ صدقہ پر فضیلت ہوتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (شرحبيل).
(٢) سقط من: [جـ، س].
(٣) في [ب]: (ويخاف).