حدیث نمبر: 37272
٣٧٢٧٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا عبد (اللَّه) (١) بن (عابس) (٢) قال: حدثني (إياس) (٣) عن عبد اللَّه أنه كان يقول في خطبته: إن أصدق الحديث كلام اللَّه، وأوثق العرى (كلمة) (٤) التقوى، وخير الملل ملة إبراهيم، وأحسن القصص هذا القرآن وأحسن السنن سنة محمد ﷺ (٥)، وأشرف الحديث ذكر اللَّه، وخير الأمور عزائمها، وشر الأمور محدثاتها، وأحسن الهدي هدى الأنبياء، وأشرف الموت قتل الشهداء، وأغرّ الضلالة: الضلالة بعد الهدى، وخير العلم ما نفع، وخير الهدى ما اتبع، وشر العمى عمى القلب، واليد العليا خير من اليد السفلى، وما قل وكفى خير مما كثر وألهى، ونفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها، وشر (العذلة) (٦) عند حضرة الموت، وشر الندامة (ندامة) (٧) يوم القيامة، ومن الناس من لا يأتي الصلاة إلا (دبريًا) (٨)، ومن الناس من لا يذكر اللَّه إلا ⦗٣٣٧⦘ (هاجرا) (٩)، وأعظم الخطايا اللسان الكذوب، وخير الغنى غنى النفس، (وخير) (١٠) الزاد التقوى، ورأس الحكمة مخافة اللَّه، وخير ما ألقي في القلب اليقين، والريب من الكفر، والنوح من عمل الجاهلية، والغلول من جمر جهنم، والكنز كي من النار، والشعر (مزامير) (١١) إبليس، والخمر جماع الإثم، والنساء حبائل الشيطان، والشباب شعبة من الجنون، وشر الكاسب كسب الربا، وشر المآكل أكل مال اليتيم، والسعيد من وعظ بغيره، والشقي من شقي في بطن أمه، وإنما يكفي أحدكم ما قنعت به نفسه، وإنما (يصير) (١٢) إلى موضع أربع أذرع، والأمر بآخره، وأملك العمل به خواتمه، وشر (الروايا) (١٣) روايا الكذب، وكل ما هو آت قريب، وسباب المؤمن فسوق، وقتاله كفر، وأكل لحمه من معاصي (اللَّه) (١٤)، وحرمة ماله كحرمة دمه، ومن يتألّ على اللَّه يكذبه، ومن يغفر يغفر اللَّه له، ومن يعف يعف اللَّه عنه، ومن يكظم الغيظ يأجره اللَّه، ومن يصبر على (الرزايا) (١٥) يعقبه (١٦) اللَّه، ومن يعرف البلاء يصبر عليه، ومن لا يعرفه ينكره، ومن (يستكبر) (١٧) (يضعه) (١٨) اللَّه، ومن يبتغي السمعة يسمع اللَّه به، ومن ينوي الدنيا (تعجزه) (١٩)، ومن يطع الشيطان يعص اللَّه، ⦗٣٣٨⦘ ومن يعص اللَّه يعذبه (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے خطبہ میں کہا کرتے تھے : سب سے سچی بات کلام اللہ ہے اور مضبوط ترین کڑا کلمۃ التقویٰ ہے اور بہترین ملت، ملت ابراہیمی ہے اور خوبصورت قصوں میں سے یہ قرآن ہے اور خوبصورت راستہ، سنت محمد ﷺ ہے۔ سب سے زیادہ شرافت والی بات ذکر اللہ ہے۔ بہترین امور میں سے پختہ امر ہے۔ امور میں سے بدترین امور بدعات ہیں اور اچھی ہدایت، انبیاء کی ہدایت ہے۔ سب سے عزت والی موت شہداء کا قتل ہوتا ہے۔ سب سے خطرناک گمراہی، ہدایت کے بعد کی ضلالت ہے۔ بہترین علم وہ ہے جو نفع مند ہو اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے۔ بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے۔ ٢۔ اور اوپر کا ہاتھ، نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے جو چیز کم ہو اور کافی ہو اس چیز سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔ وَنَفْسٌ تُنْجِیہَا خَیْرٌ مِنْ أَمَارَۃٍ لاَ تُحْصِیہَا بدترین ملامت موت کے وقت کی ملامت ہے اور بدترین ندامت، قیامت کے دن کی ملامت ہے۔ اور بعض لوگ نماز کے لیے آخری وقت میں آتے ہیں۔ اور بعض اللہ کا ذکر غافل دل کے ساتھ کرتے ہیں۔ غلطیوں میں سے سب سے بڑی غلطی جھوٹی زبان ہے۔ بہترین تونگری، دل کی تونگری ہے۔ بہترین زاد تقویٰ ہے۔ حکمت کا بڑا حصہ، خوفِ خدا ہے۔ دلوں میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے اس میں سے بہترین چیز یقین ہے اور کفر کے بارے میں شک اور نوحہ، جاہلیت کا عمل ہے۔ خیانت (مالِ غنیمت میں) جہنم کا انگارہ ہے اور خزانہ جہنم کا داغنا ہے۔ ٣۔ شعر، شیطان کے باجوں میں سے ہے۔ شراب، گناہوں کا مجموعہ ہے۔ عورتیں، شیطان کی رسیاں ہیں۔ جوانی، جنون کا شعبہ ہے۔ بدترین کمائی، سود کی کمائی ہے اور بدترین کھانا یتیم کا کھانا ہے۔ خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بدبخت وہ ہے جو بطن مادر میں بدبخت لکھا گیا ہے۔ تم میں سے کسی کو اتنی مقدار کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کرلے۔ کیونکہ لوٹنا تو چار بالشت (زمین) کی طرف ہے۔ معاملہ، آخر کا معتبر ہوتا ہے۔ کسی شے پر عمل کا دار و مدار خاتمہ پر ہوتا ہے۔ بدترین روایت کرنے والے، جھوٹ کے روایت کرنے والے ہیں اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ ٤۔ مومن کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کے گوشت کو کھانا خدا کی نافرمانیوں میں سے ہے۔ اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔ جو اللہ پر جرأت کرتا ہے اللہ اسے جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ اور جو معاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو معاف کردیتے ہیں اور جو درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی درگزر کرتے ہیں اور جو اپنے غصہ کو قابو کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اجر دیتے ہیں اور جو شخص رزایا پر صبر کرتا ہے اللہ اس کی اعانت کرتے ہیں اور جو آزمائش کو پہچانتا ہے وہ اس پر صبر کرتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ اس کو ناپسند کرتا ہے اور جو بڑا بنتا ہے اللہ اس کو گرا دیتے ہیں اور جو ناموری چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرتے ہیں اور جو دنیا کی چاہت کرتا ہے۔ دنیا اس کو تھکا دیتی ہے اور جو شیطان کی مانتا ہے خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے خدا اس کو عذاب دیتا ہے۔

حواشی
(١) في النسخ: (عبد اللَّه)، وفي مراجع التخريج (عبد الرحمن) وهو الصواب.
(٢) في [أ، هـ]: (عائش).
(٣) كذا في النسخ، وصوابه: (أبو إياس).
(٤) في [س]: (لحكمة).
(٥) سقط من: [س، ع].
(٦) أي: الملامة، في [ب، س]: (العزلة)، وفي [أ، هـ]: (العذيلة).
(٧) سقط من: [س].
(٨) وفي [هـ]: (دبرًا).
(٩) في [هـ]: (هجرًا).
(١٠) في [ب]: (ورأس).
(١١) في [ب]: (من أمر).
(١٢) في [ب، س]: (تصير).
(١٣) في [ب]: (الرؤايا).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [س]: (الزرايا).
(١٦) أي: يجعل العاقبة له.
(١٧) في [ع]: (يستكر).
(١٨) في [س]: (ضيعه).
(١٩) في [ب]: (يعجزه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37272
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عمر في المطالب العالية (٣١٢٥)، والبخاري في خلق أفعال العباد (ص ٤٢)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٩، والبيهقي المدخل (٨٧٦)، والاعتقاد (ص ١٠٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٨، وهناد (٤٩٧)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٤٧٩)، والخطابي في غريب الحديث ٢/ ١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37272، ترقيم محمد عوامة 35694)