مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يخفف القراءة في السفر باب: جو حضرات سفر میں مختصر قراءت کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 3727
٣٧٢٧ - حدثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن (سليمان) (١) بن موسى عن عقبة بن عامر الجهني قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر، فلما طلع الفجر أذن وأقام، ثم أقامني عن (يمينه) (٢) فقرأ بالمعوذتين، فلما انصرف قال: "كَيْفَ رَأيْتَ؟ " (قلت: قد رأيت) (٣) يا رسول اللَّه، قال: "فَاقْرَأ بِهِمَا (كُلَّمَا) (٤) نمْتَ، وَ (كُلَّمَا) (٥) قُمْتَ" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب فجر طلوع ہوئی تو آپ نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، پھر معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ تم کیا رائے رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ٹھیک رائے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم جب سونے لگو تو ان سورتوں کو پڑھو اور جب سوکراٹھو تو تب بھی ان سورتوں کو پڑھو۔
حواشی
(١) في [ب]: (سلمان).
(٢) في [د] زيادة (ثم).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [هـ]: (كما).
(٥) في [هـ]: (كما).
(٦) منقطع، سليمان بن موسى لا يروي عن عقبة بن عامر، أخرجه أبو داود (١٤٦٢)، والنسائي ٢/ ١٥٨، وأحمد ٤/ ١٤٤، وابن خزيمة (٥٣٤)، وابن حبان (١٨١٥)، والحاكم ٢/ ٢٤٠، والبيهقي ٢/ ٣٩٤، وأصله عند مسلم (٨١٤).