حدیث نمبر: 37250
٣٧٢٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن القاسم قال: قال عبد اللَّه: لا تعجلوا بحمد الناس وبذمهم، فإن الرجل يعجبك اليوم ويسوءك غدا، ويسوءك اليوم ويعجبك غدا، وإن العباد يغيرون، واللَّه يغفر الذنوب يوم القيامة، واللَّه أرحم (بعبده يوم يأتيه) (١) من أم واحد فرشت له في الأرض (في) (٢) ثم قامت تلتمس فراشه بيدها، فإن كانت لدغة كانت بها، وإن كانت شوكة كانت بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کی حمد اور لوگوں کی مذمت کی وجہ سے جلد بازی نہ کرو۔ کیونکہ آج کے دن ایک آدمی تمہیں پسند کرے گا اور کل کے دن یہی آدمی تمہیں برا سمجھے گا۔ اور آج (اگر) برا سمجھے گا تو کل تمہیں اچھا سمجھے گا۔ کیونکہ لوگ بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ جس دن بندہ اللہ کے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اس ماں سے زیادہ رحم کرنے والے ہوں گے جو ماں بچے کے لیے خالی زمین میں فرش بچھائے پھر اس کے بچھونے کو اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر تلاش کرنے لگے چناچہ اگر کوئی ڈسنا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا اور اگر کوئی کانٹا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (بعباده يوم تأتيه).
(٢) أي: أرض خالية، وفي [س]: (فيء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف والقاسم لم يدرك ابن مسعود، أخرجه الطبراني (٨٩٢٩)، وابن المبارك في الزهد (٨٩٩)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٨، والبيهقي في الشعب (٦٦٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37250، ترقيم محمد عوامة 35672)