حدیث نمبر: 37231
٣٧٢٣١ - حدثنا أبو أسامة عن الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثتني أمي عن أم عثمان أم ولد لعلي قال: جئت عليا وبين يديه قرنفل (مكبوب) (١) في الرحبة فقلت: يا أمير المؤمنين هب لابنتي من هذا القرنفل قلادة، فقال: هكذا، (ونقد) (٢) بيديه: (أدني) (٣) درهما جيدا، فإنما هذا مال المسلمين، وإلا فاصبري حتى يأتينا حظنا (٤) فنهب لابنتك منه زيادة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد، ام عثمان سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان کے سامنے صحن میں لونگ کا ڈھیر تھا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس لونگ میں سے ایک ہار میری بیٹی کو ہدیہ کردیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹھونکا۔ ایک عمدہ درہم قریب کرو کیونکہ یہ مسلمانوں کا مال ہے۔ بصورت دیگر صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمیں ہمارا حصہ مل جائے پھر ہم اس میں سے تمہاری بیٹی کو ہدیہ کردیں گے۔
حواشی
(١) في [س]: (مكثوب).
(٢) في [س]: (يعد)، وفي [ط، هـ]: (ونقر).
(٣) في [ط، هـ]: (أرني).
(٤) في [هـ]: زيادة (منه).
(٥) مجهول؛ لجهالة المرأتين، وتقدم الخبر ١٢/ ٣١٩ برقم [٣٥١٠٩].