٣٧٢٢٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبي إسحاق قال: قال علي: (كلمات) (١) لو رحلتم المطي فيهن لأنضيتموهن قبل أن تدركوا مثلهن: لا يرج عبد إلا ربه، ولا يخف إلا ذنبه، (ولا يستحيي من لا يعلم أن يتعلم) (٢)، ولا يستحي عالم إذا سئل عما (لا) (٣) يعلم أن يقول: اللَّه أعلم، (واعلموا) (٤) أن منزلة الصبر من الإيمان كمنزلة الرأس من الجسد، فإذا ذهب الرأس ذهب الجسد، وإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان (٥).حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : چند باتیں ایسی ہیں کہ اگر تم سواریوں کو چلاؤ تو تم ان باتوں کی مثل پانے سے قبل سواریوں کو ہلاک وفنا کردو گے۔ بندہ اپنے پروردگار کے سوا کسی سے امید نہ رکھے۔ بندہ صرف اپنے گناہ سے ڈرے۔ جو آدمی نہ جانتا ہو وہ جاننے سے حیا نہ کرے اور جب آدمی سے غیر معلوم بات کا سوال ہو تو اس کو اللہ اعلم کہنے سے حیا نہیں آنی چاہیے۔ اور یہ بات جان لو کہ صبر کا ایمان میں وہی مقام ہے جو جسم میں سر کا ہے۔ پس جب سر چلا جاتا ہے تو جسم چلا جاتا ہے اور جب صبر چلا جاتا ہے تو ایمان چلا جاتا ہے۔