حدیث نمبر: 37218
٣٧٢١٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن أبي تميمة قال: سمعت عطاء بن أبي (رياح) (١) قال: كان علي بن أبي طالب إذا بعث سرية (ولى) (٢) أمرها رجلا فأوصاه فقال: أوصيك بتقوى اللَّه، لا بد لك من لقائه، ولا منتهى لك دونه، وهو يملك الدنيا والآخرة، وعليك بالذي يقربك إلى اللَّه، فإن (فيما) (٣) عند اللَّه خلفا من (الدنيا) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب جب کوئی سریہ روانہ فرماتے تو اس پر کسی آدمی کو متولی بناتے اور اس کو وصیت کرتے۔ فرماتے : میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ تمہیں اللہ سے ضرور ملنا ہے اور اس سے پیچھے تمہارے لیے منتہی کوئی نہیں ہے۔ وہی دنیا، آخرت کا مالک ہے اور تم ضرور وہ کام کرو جو تمہیں اللہ کے قریب کرے کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیا کے مال کا بھی خلیفہ ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (رباح).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ]: (فيها).
(٤) في [ب]: (الدني).
(٥) منقطع؛ عطاء لا يروي عن علي، أخرجه الخلال في السنة (٥٩).