حدیث نمبر: 37214
٣٧٢١٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل وسفيان عن زبيد بن الحارث عن رجل من بني عامر قال: قال علي: إنما أخاف عليكم اثنتين: طول الأمل واتباع الهوى، فإن طول الأمل ينسي الآخرة، وإن اتباع الهوى يصد عن الحق، وإن الدنيا قد ترحلت مدبرة، وأن الآخرة مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون فكونوا من أبناء الآخرة فإن اليوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل (١).
مولانا محمد اویس سرور

بنو عامر کے ایک صاحب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے تم پر صرف دو چیزوں کا خوف ہے۔ لمبی امید، اور خواہشات کی پیروی۔ کیونکہ امید کا لمبا ہونا آخرت کو بھلا دیتا ہے۔ اور خواہشات کی اتباع، حق بات سے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یقینا دنیا پیٹھ پھیر کر کوچ کرجاتی ہے اور آخرت آرہی ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں۔ پس تم لوگ آخرت کے بیٹے بنو۔ پس آج عمل ہے، حساب نہیں ہے اور کل حساب ہوگا عمل نہیں ہوگا۔

حواشی
(١) مجهول؛ لإبهام شيخ زبيد، أخرجه أحمد في الزهد، وابن المبارك (٢٥٥)، وهناد (٤٠٩)، وابن عساكر ٤٢/ ٤٩٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37214
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37214، ترقيم محمد عوامة 35636)