حدیث نمبر: 37213
٣٧٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن عامر عن ابن عباس قال: دخلت على عمر حين طعن فقلت: أبشر بالجنة يا أمير المؤمنين أسلمت حين كفر الناس وجاهدت مع رسول اللَّه حين خذله الناس، وقبض رسول ⦗٣٢٠⦘ اللَّه (١) وهو عنك راض، ولم يختلف في خلافتك اثنان، وقتلت شهيدًا، فقال: أعد علي، فأعدت عليه فقال: والذي لا إله غيره، لو أن لي ما على الأرض من صفراء وبيضاء (لافتديت) (٢) به من هول المطلع (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ جب دیگر لوگوں نے کفر کیا تب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ جب دیگر لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کررہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت اس حال میں آئی کہ آپ تم سے راضی تھے۔ اور آپ کی خلافت میں کوئی دو آدمی اختلاف کرنے والے نہیں ہیں اور آپ شہید ہو کر مر رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات دوبارہ کہو۔ چناچہ میں نے یہ بات آپ کو دوبارہ کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میرے پاس زمین پر موجود چیزوں کے برابر سونا چاندی ہوتا تو میں اس کے ذریعہ قیامت کی ہولناکی سے جان چھڑا لیتا۔

حواشی
(١) في [ب، جـ]: زيادة ﷺ.
(٢) في [س]: (لأقتدين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37213
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد سليمان بن حيان صدوق، وداود هو ابن أبي هند، وعامر هو الشعبي، أخرجه ابن حبان (٦٨٩١)، والحاكم ٣/ ٩٧، وابن عساكر ٤٤/ ٤٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37213، ترقيم محمد عوامة 35635)