حدیث نمبر: 37212
٣٧٢١٢ - حدثنا حسين بن علي قال: حدثني طعمة بن غيلان الجعفي عن رجل يقال: له ميكائيل شيخ من أهل خراسان قال: كان (عمر) (١) إذا قام من الليل قال: قد ترى مقامي وتعلم حاجتي، فأرجعني من عندك -يا اللَّه- بحاجتي مفلحا منجحا مستجيبا مستجابا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم لا أرى شيئا من (الدنيا) (٢) يدوم، ولا أرى حالا فيها يستقيم، (اللهم) (٣) اجعلني أنطق فيها بعلم وأصمت فيها بحكم، اللهم لا تكثر لي من (الدنيا) (٤) فأطغى، ولا تقل لي منها فأنسى، فإن ما قل وكفى خير مما كثر وألهى (٥).
مولانا محمد اویس سرور

میکائیل نامی ایک آدمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب رات کو قیام کرتے تو فرماتے ۔ تحقیق تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے اور میری ضرورت کو جانتا ہے۔ پس اے اللہ ! تو مجھے اپنے پاس سے کامیاب، اور دعا قبول کیا ہوا واپس فرما۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور مجھ پر رحمت کی اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنی نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے۔ اے اللہ ! میں دنیا کی کسی چیز میں دوام نہیں دیکھتا۔ اور میں دنیا کی کسی حالت کی استقامت نہیں دیکھ رہا۔ اے اللہ ! تو دنیا میں مجھے علم کے ساتھ بولنے والا بنا دے اور دنیا میں مجھے اپنے حکم کے ساتھ خاموش رہنے والا بنا دے۔ اے اللہ ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ نہ کرنا کہ پھر میں سرکش ہوجاؤں اور میرے لیے دنیا اتنی کم بھی نہ کرنا کہ میں بھول جاؤں۔ بیشک اتنی کم دنیا جو کافی ہو اس زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کرے۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (الدني).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) مجهول؛ لجهالة ميكائيل والخبر أخرجه ابن أبي الدنيا في التهجد (٤١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37212
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37212، ترقيم محمد عوامة 35634)