حدیث نمبر: 37207
٣٧٢٠٧ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة قال: دخلت على عمر وهو قاعد على جذع في داره، وهو يحدث نفسه فدنوت منه فقلت: ما الذي أهمك يا أمير المؤمنين؟ فقال: هكذا بيده وأشار بها، قال: قلت: الذي يهمك، واللَّه لو رأينا منك أمرا ننكره لقومناك، قال: آللَّهِ الذي لا إله إلا هو، لو رأيتم مني أمرا تنكرونه لقومتموه، فقلت: آللَّهِ الذي لا إله إلا هو، لو رأينا منك أمرا ننكره لقومناك، قال: ففرح بذلك فرحا شديدا، ⦗٣١٨⦘ وقال: الحمد للَّه الذي جعل فيكم أصحاب محمد (١) من الذي [إذا رأى مني أمرا ينكره قومني (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا جبکہ وہ اپنے گھر کی چوکھٹ پر تھے اور اپنے آپ سے باتیں کررہے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا اور میں نے پوچھا : اے امیر المومنین ! کس چیز نے آپ کو فکر مند کر رکھا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ فرما کر کچھ کہا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : آپ کو کس چیز نے وہم میں ڈالا ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر ہم آپ سے کسی امر منکر کو دیکھیں گے تو ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا ! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر تم نے مجھ سے کوئی امر منکر دیکھا تو تم مجھے سیدھا کردو گے ؟ میں نے کہا : اس خدا کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہم نے اگر آپ سے کوئی امر منکر دیکھا تو البتہ ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہارے اندر محمد ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ م پیدا فرمائے جو مجھ سے بھی کوئی امر منکر دیکھیں گے تو مجھے سیدھا کریں گے۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة ﷺ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37207
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37207، ترقيم محمد عوامة 35629)