حدیث نمبر: 37204
٣٧٢٠٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن (عبد اللَّه) (١) ابن عامر (٢) قال: خرجت مع عمر فما رأيته مضطربا ⦗٣١٧⦘ فسطاطا (٣) حتى رجع، قال: قلت: بأي شيء كان يستظل؟ قال: يطرح النطع على الشجرة يستظل به (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلا تو میں نے ان کو واپس آنے تک خیمہ لگاتے نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پھر وہ کس چیز سے سایہ حاصل کرتے تھے ؟ استاد نے جواب دیا : چمڑے کو درخت پر ڈال دیتے تھے اور اس سے سایہ حاصل کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ع]: (عبيد اللَّه).
(٢) كذا في النسخ، وفي كتاب الحج فيما سبق باب المحرم يستظل، وهي كذلك في طبقات ابن سعد ٣/ ٢٧٩، وتاريخ ابن عساكر ٤٤/ ٣٠٥، وأسد الغابة ٤/ ١٨٣، وشرح العمدة ٣/ ٦٠، والمجالسة ١/ ٤١٢، وفي مسند الشافعي (ص ٣٦٥): (عبد اللَّه بن عياش بن أبي ربيعة)، وكذلك سنن البيهقي ٥/ ٧٠، ومعرفة السنن ٤/ ٤٣، وشرح النووي على مسلم ٩/ ٤٦، وتعجيل المنفعة (ص ٢٣١).
(٣) أي: لم ينصب خيمة.