حدیث نمبر: 37203
٣٧٢٠٣ - حدثنا معاوية بن هشام عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: كنت أمشي مع عمر بن الخطاب فرأى تمرة مطروحة فقال، خذها، قلت: وما أصنع بتمرة قالت: مرة وتمرة حتى تجتمع، (فأخذتها) (١) فمر بمربد تمر فقال: ألقها فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے ایک گری ہوئی کھجور دیکھی تو فرمایا اس کو پکڑ لو۔ میں نے عرض کیا۔ میں اس کھجور کو کیا کروں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک ایک کھجور ہی جمع ہوتی ہے۔ پس میں نے وہ پکڑ لی پھر آپ رضی اللہ عنہ کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اس کھجور کو یہاں پھینک دو ۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فأخذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37203
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ هشام بن سعد له أوهام.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37203، ترقيم محمد عوامة 35625)