٣٧١٩١ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا هشام بن عروة عن أبيه قال: لما قدم عمر الشام كان قميصه قد تجوب عن مقعده قميص سنبلاني (١) غليظ، فأرسل به إلى صاحب أذرعات أو (أيلة) (٢)، قال: فغسله ورقعه وخيط له قميص (قبطري) (٣)، فجاء بهما جميعا فألقى إليه القبطري، فأخذه عمر فمسه فقال: هذا (ألين) (٤)، (فرمى) (٥) به إليه وقال: ألق إلي قميصي، فإنه أنشفهما للعرق (٦).حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص، بیٹھنے کی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔ وہ ایک موٹی اور سنبلانی قمیص تھی۔ چناچہ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ قمیص صاحب اذرعات یا ایلہ کی طرف بھیجی۔ راوی کہتے ہیں پس اس نے اس قمیص کو دھویا اور اس میں پیوند لگا دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے قبطری قمیص سی گئی۔ پھر ان دونوں قمیصوں کو لے کر آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو قبطری قمیص دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قمیص کو پکڑا اور اس کو چھوا پھر فرمایا : یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اسی آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا : مجھے میری قمیص دے دو کیونکہ وہ ان دونوں قمیصوں میں سے پسینہ کو زیادہ چوسنے والی ہے۔