٣٧١٩٠ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى ⦗٣١٢⦘ قال: قدم على عمر ناس من (١) العراق، فرأى كأنهم يأكلون تعذيرا (٢)، فقال: ما هذا يا أهل العراق؟ لو شئت أن يدهمق (٣) (لي) (٤) كما يدهمق لكم لفعلت، ولكننا نستبقي من دنيانا (ما) (٥) نجده في آخرتنا، أما سمعتم اللَّه قال: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ (٦).حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، عراق کے کچھ لوگ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا کہ گویا وہ کھانا تھوڑا کھا رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! یہ کیا ہے ؟ اگر میں چاہتا کہ جس طرح تمہارے لیے کھانا عمدہ بنایا گیا، میرے لیے بھی بنایا جائے تو میں بنوا سکتا ہوں۔ لیکن ہم اپنی دنیا میں سے بچاتے ہیں جس کو ہم آخرت میں پائیں گے۔ کیا تم نے حق تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : { أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا }۔