حدیث نمبر: 37182
٣٧١٨٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن مصعب بن محمد عن رجل من غفار عن أبيه قال: أقبلت بطعام أحمله من (الجار) (١) على إبل من إبل الصدقة فتصفحها عمر فأعجبه بكر فيها، قلت: خذه يا أمير المؤمنين فضرب بيده على كتفي وقال: واللَّه، ما أنا بأحق به من رجل من بني غفار (٢).مولانا محمد اویس سرور
” قبیلہ غفار کا ایک آدمی، اپنے والد سے روایت کرتا ہے اس کے والد کہتے ہیں کہ میں مقام جار سے صدقہ کے اونٹوں پر کھانا لاد کر لا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں کو غور سے دیکھا تو ان اونٹوں میں ایک جوان اونٹ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پسند آیا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس کو لے لیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا : میں بنو غفار کے آدمی سے زیادہ اس کا حقدار نہیں ہوں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (الحار)، والجار مكان بالحجاز.
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل الغفاري.