حدیث نمبر: 37177
٣٧١٧٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: كان عمر يمشي في طريق ومعه عبد اللَّه بن عمر فرأى جارية مهزولة تطيش مرة وتقوم أخرى، فقال: (هابؤس) (١) لهذه هاه، من يعرف تياه، فقال عبد اللَّه: هذه واللَّه إحدى بناتك، قال: بناتي؟ قال: نعم، قال: من هي؟ قال: بنت عبد اللَّه بن عمر، قال: (ويلك) (٢) يا عبد اللَّه (بن عمر) (٣) أهلكتها هزلا، قال: ما نصنع، منعتنا ما عندك، ⦗٣٠٨⦘ فنظر إليه فقال: ما عندي؟ عزك أن تكسب لبناتك كما تكسب الأقوام، لا واللَّه، مالك عندي إلا سهمك مع المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ راستہ میں چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک کمزور سی بچی کو دیکھا جو کبھی اٹھتی اور کبھی گرتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہائے، اس کی بدحالی۔ ہائے ! اس کو کون جانتا ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہی ایک بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ میری بچیوں میں سے۔ حضرت عبداللہ نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ حضرت عبداللہ نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے عبداللہ بن عمر ! تم اس کو کمزوری سے ہلاک کرو گے۔ عبداللہ نے کہا ہم کیا کریں جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کو آپ نے ہم سے روک رکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور فرمایا : میرے پاس کیا ہے ؟ تمہیں یہ بات شاق گزرتی ہے کہ جس طرح دیگر لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے کماتے ہیں تم بھی اپنی بیٹیوں کے لیے کماؤ۔ نہیں، خدا کی قسم ! میرے پاس تمہارے لیے دیگر مسلمانوں کے ساتھ (برابر کا) حصہ ہی ہے۔

حواشی
(١) في [ع]: (يابؤس).
(٢) في [س]: (واللَّه).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) منقطع؛ الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه الخطابي في غريب الحديث ٢/ ١٢٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37177
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37177، ترقيم محمد عوامة 35599)