حدیث نمبر: 37170
٣٧١٧٠ - حدثنا مروان بن معاوية عن محمد بن سوقة قال: أتيت نعيم بن أبي هند فأخرج إلي صحيفة فإذا فيها: من أبي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل إلى عمر (ابن الخطاب) (١): سلام عليك أما بعد، فإنا عهدناك وأمر نفسك لك مهم، وأصبحت (و) (٢) قد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها، (يجلس) (٣) بين يديك الشريف والوضيع والعدو والصديق، و (لكل) (٤) (حصته) (٥) من العدل، فانظر كيف أنت عند ذلك يا عمر، فإنا نحذرك يوما تعنو فيه الوجوه، و (تجف) (٦) فيه القلوب، وتُقطع فيه الحجج، (ملك) (٧) قهرهم بجبروته، والخلق داخرون له، يرجون رحمته ويخافون (عقابه) (٨)، وإنا كنا نُحدث أن أمر هذه الأمة سيرجع (في) (٩) آخر زمانها: ⦗٣٠٥⦘ أن يكون إخوان العلانية أعداء السريرة، (وإنا) (١٠) نعوذ باللَّه أن ينزل كتابنا إليك سوى المنزل الذي نزل من قلوبنا، فإنا كتبنا به نصيحة لك والسلام (عليك) (١١)، فكتب إليهما: من عمر بن الخطاب: إلى أبي عبيدة ومعاذ بن جبل سلام عليكما أما بعد، فإنكما كتبتما إلي تذكران أنكما عهدتماني وأمر نفسي لي مهم، وأني قد أصبحت قد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها يجلس بين يدي الشريف والوضيع والعدو والصديق، ولكل (حصته) (١٢) من ذلك، وكتبتما فانظر كيف أنت عند ذلك يا عمر، وأنه لا حول ولا قوة (عند ذلك لعمر) (١٣) إلا باللَّه، وكتبتما تحذراني ما حُذرت به الأمم قبلنا، وقديما كان اختلاف الليل والنهار بآجال الناس يقربان كل بعيد، ويبليان كل جديد، ويأتيان بكل موعود، حتى يصير الناس إلى منازلهم من الجنة والنار، كتبتما تذكران أنكما كنتما تحدثان أن أمر هذه الأمة سيرجع في آخر زمانها: أن يكون إخوان العلانية أعداء السريرة، ولستم بأولئك، ليس هذا بزمان ذلك، وإن (ذلك) (١٤) زمان تظهر فيه الرغبة والرهبة، تكون رغبة بعض الناس إلى بعض لصلاح دنياهم، ورهبة بعض الناس من بعض، كتبتما به نصيحة تعظاني باللَّه أن أنزل كتابكما سوى المنزل الذي (نزل) (١٥) من قلوبكما، وأنكما كتبتما به (نصيحة تعظان باللَّه) (١٦) وقد صدقتما، فلا تدعا الكتاب إليّ فإنه لا ⦗٣٠٦⦘ غنى (بي) (١٧) عنكما والسلام عليكما (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن سوقہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ہند کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خط ہے۔ آپ پر سلامتی ہو۔ اما بعد ! ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں۔ تمہارے لیے تمہاری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے۔ آپ اس وقت ایسی حالت میں ہیں کہ آپ کو اس امت کے سرخ اور سفید پر اختیار حاصل ہوا ہے۔ آپ کے سامنے شریف اور گھٹیا آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کو انصاف میں اس کا حصہ ملتا ہے۔ اے عمر رضی اللہ عنہ ! پس آپ دیکھیں کہ اس وقت آپ کیسے ہو ؟ کیونکہ ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس دن چہرے جھکے ہوں گے اور دل خشک ہوچکے ہوں گے اور اس دن دلیلیں کاٹ دی جائیں گی۔ ایک بادشاہ ہوگا جو لوگوں پر اپنی جبروت کی وجہ سے غالب ہوگا۔ اور مخلوق اس کے لیے ذلیل ہوگی۔ اپنے رب کی رحمت کی امید کرتے ہوں گے اور اس کے عذاب سے خوف کرتے ہوں گے۔ اور ہمیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کے آخر کا معاملہ اس طرح سے لوٹے گا کہ وہ علانیہ طور پر بھائی اور خلوت کے دشمن ہوں گے۔ اور ہم اس بات سے اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں کہ ہمارا یہ آپ کو خط، اس جگہ کے علاوہ اترے جس جگہ ہمارے دلوں سے اترا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو صرف خیر خواہی کے لیے لکھا ہے۔ والسلام علیک پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو تحریر فرمایا : عمر بن خطاب کی طرف سے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے نام۔ آپ دونوں کو سلام ہو۔ اما بعد ! تم نے میری طرف خط لکھا ہے اور مجھے یہ بات یاد دلائی ہے کہ تم مجھے نصیحت کررہے ہو اور میرے لیے میری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے اور یہ کہ میں ایسی حالت میں ہوں کہ مجھے اس امت کے سرخ و سیاہ پر اختیار حاصل ہے۔ میرے سامنے شریف اور ذلیل آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔ اور تم نے مجھے یہ بات بھی لکھی ہے کہ اے عمر ! تم خیال رکھو کہ اس وقت تم کیسے رہتے ہو ؟ ایسے وقت میں عمر کے پاس اللہ کی طاقت اور قوت کے علاوہ کسی شے کا سہارا نہیں ہے۔ اور تم نے میری طرف خط لکھ کر مجھے اس بات سے ڈرایا جس سے ہم سے پہلی امتوں کو ڈرایا گیا۔ اور زمانہ قدیم سے یہ دستور ہے کہ گردش لیل ونہار ہر دور کو قریب کردیتی ہے اور ہر جدید کو بوسیدہ کردیتی ہے۔ اور ہر موعود کو حاضر کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ جنت یا جہنم میں اپنی منازل کو لوٹ جاتے ہیں اور تم نے یہ بات لکھ کر بھی مجھے یاد دہانی کروائی کہ تمہیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کا معاملہ آخر زمانہ میں اس طرف لوٹے گا کہ یہ ظاہری طور پر بھائی ہوں گے اور خلوت کے دشمن ہوں گے لیکن تم لوگ ایسے نہیں ہو اور یہ زمانہ بھی وہ نہیں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں خوف اور شوق ظاہر ہوگا۔ بعض لوگوں کا شوق بعض لوگوں کی طرف اپنی دنیا کی بہتری کے لیے ہوگا اور بعض لوگوں سے بعض کا خوف ہوگا۔ تم نے مجھے یہ خط لکھ کر خدا کے نام پر وصیت کی کہ یہ خط اسی جگہ اترے جس جگہ تمہارے دلوں سے اترا ہے۔ تم لوگوں نے یہ خط لکھا ہے اور تم نے سچ لکھا ہے۔ پس تم مجھے خط لکھنا نہ چھوڑنا کیونکہ میرے لیے تمہارے خط کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔ والسلام علیکما

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (أجلس).
(٤) في [هـ]: (بكل).
(٥) في [جـ، ط، هـ]: (حصة).
(٦) في [هـ]: (تحف).
(٧) في [ط، هـ]: (تملك).
(٨) في [ع]: (عذابه).
(٩) في [هـ]: (إلى).
(١٠) في [س]: (فإنا).
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [ط، هـ]: (حصة).
(١٣) في [جـ، س]: (إلا باللَّه العلي العظيم عند ذلك لعمر إلا باللَّه).
(١٤) في [ع]: (ذاك).
(١٥) سقط من: [أ، ب].
(١٦) سقط من: [ط، هـ].
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) منقطع؛ نعيم بن أبي هند لا يروي عن عمر ولا معاذ ولا أبي عبيدة، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٣٨، والطبراني ٢٠/ (٤٥)، وابن عساكر ٦٥/ ٦٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37170
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37170، ترقيم محمد عوامة 35592)