حدیث نمبر: 37167
٣٧١٦٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن أبي بردة قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد! إن أسعد الرعاة من (سعدت) (١) به رعيته، (وإن أشقى) (٢) الرعاة عند اللَّه من شقيت به رعيته، وإياك أن (ترتع فيرتع عمالك) (٣)، فيكون مثلك عند اللَّه مثل البهيمة، نظرت إلى خضرة من الأرض فرتعت فيها تبتغي بذلك السمن، وإنما حتفها في سمنها (والسلام عليك) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن ابی بردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ کی طرف خط لکھا : اما بعد ! پس بیشک خوش بخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعیت خوشحال ہو اور یقینا اللہ کے ہاں بدبخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس سے اس کی رعیت بدحال ہو۔ خبردار ! تم اس بات سے بچو کہ تم (غلط جگہ) چرنے لگو پھر تمہارے عمال بھی چرنے لگیں۔ پس تمہاری مثال اللہ کے ہاں جانور کی سی ہوگی جو زمین کے سبزے کی طرف دیکھتا ہے تو اس میں چرنے لگتا ہے اور اس کا مقصد موٹاپا ہوتا ہے جبکہ اس کے موٹاپے میں ہی اس کی موت ہے۔ والسلام علیک

حواشی
(١) في [جـ]: (سعد).
(٢) في [س]: (وأشقاه).
(٣) في [ع]: (تزيغ فيزغ عمالك).
(٤) في [ط، هـ]: (وعليك السلام).
(٥) منقطع؛ سعيد بن أبي بردة لم يدرك عمر، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٠، وابن البخاري في المشيخة ١/ ٢٢٣، وابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٣٨١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37167
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37167، ترقيم محمد عوامة 35589)