حدیث نمبر: 37165
٣٧١٦٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن ابن عوف قال: لما أتي عمر بكنوز، (آل) (١) كسرى فإذا من (الصفراء) (٢) (و) (٣) البيضاء ما يكاد أن (يحارمنه) (٤) البصر، قال: فبكى عمر عند ذلك، (فقال) (٥) عبد الرحمن: ما يبكيك يا أمير المؤمنين؟ إن هذا اليوم (ليوم) (٦) شكر وسرور وفرح، فقال عمر: ما كثر هذا عند قوم إلا ألقى اللَّه بينهم العداوة والبغضاء (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آلِ کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو اس میں اس قدر سونا، چاندی تھا کہ جس سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر روپڑے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ کو کس چیز نے رلا دیا ہے ؟ یقینا آج کا دن تو شکر، خوشی اور فرحت کا دن ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ چیزیں جس قوم کے پاس بھی زیادہ ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتے ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (الصفر).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) في [ع]: (تحار).
(٥) في [جـ، ع]: (قال: فقال).
(٦) في [ط، هـ]: (يوم)، وسقط من: [س].