حدیث نمبر: 37164
٣٧١٦٤ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن الأعمش عن شقيق قال: كتب عمر: إن (الدنيا) (٢) خضرة حلوة، فمن أخذها بحقها كان قمنا أن يبارك له فيها، ومن أخذها بغير ذلك كان كالآكل الذي لا يشبع (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط میں تحریر فرمایا : بیشک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ پس جو آدمی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا تو وہ اس لائق ہے کہ اس کے لیے اس میں برکت دی جائے اور جو شخص اس کو اس کے بغیر لے گا تو اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ]: (الدني).