حدیث نمبر: 37162
٣٧١٦٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على بعيره فقالوا: يا أمير المؤمنين، لو ركبت (برذونا) (١) يلقاك عظماء الناس ووجوههم، قال: فقال عمر: (ألا) (٢) أراكم هاهنا، (إنما) (٣) الأمر من هاهنا وأشار بيده إلى السماء - (٤) خلوا سبيل جملي (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنے اونٹ پر تھے۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! اگر آپ غیر عربی گھوڑے پر سوار ہوجاتے کہ لوگوں کے سردار اور رئیس آپ سے ملاقات کریں گے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں یہاں دکھائی نہیں دوں گا۔ معاملہ تو وہاں ہوتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تم لوگ میرے اونٹ کا راستہ چھوڑ دو ۔

حواشی
(١) في [س، ع]: (بردونا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: زيادة (و).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37162
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء ١/ ٤٧، وابن شبه (١٤٠٩)، والخلال في السنة (٣٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37162، ترقيم محمد عوامة 35584)