حدیث نمبر: 37161
٣٧١٦١ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن أسلم مولى عمر قال: لما قدمنا مع عمر الشام أناخ بعيره وذهب لحاجته فألقيت (فروتي) (٢) بين شعبتي الرحل، فلما جاء ركب على الفرو، فلقينا أهل الشام يتلقون عمر فجعلوا ينظرون فجعلت أشير لهم إليه، قال: يقول عمر: تطمح أعينهم إلى مراكب من لا خلاق له -يريد مراكب العجم (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام گئے۔ انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اپنی حاجت کے لیے چلے گئے۔ میں نے سواری کے دونوں حصوں کے درمیان چمڑے کا ملبوس ڈال دیا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہائے تو آپ رضی اللہ عنہ اسی چمڑے پر ہی سوار ہوگئے۔ پس ہم اہل شام سے ملے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔ وہ دیکھنے لگے تو میں ان کو حضرت عمر کی طرف اشارہ کرکے بتلانے لگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نے فرمایا : ان کی آنکھیں ایسے لوگوں کے مراکب کی طرف للچاتی ہیں جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد عجمی سواریاں تھیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (فروى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37161
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٥٨٥)، وابن شبه (١٣٩٩)، وابن عساكر ٨/ ٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37161، ترقيم محمد عوامة 35583)