حدیث نمبر: 37159
٣٧١٥٩ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن مالك عن أبي السفر قال: دخل على أبي بكر ناس من إخوانه يعودونه في مرضه فقالوا (له) (١): يا خليفة رسول اللَّه ﷺ (٢) ألا ندعو لك طبيبا ينظر إليك؟ قال: قد نظر إلي، قالوا: فماذا قال لك؟ قال: قال: (إني) (٣) فعال لما (أريد) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالسفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ان کی عیادت کے لیے آئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ! کیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں جو آپ کو دیکھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میری طرف طبیب نے دیکھ لیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حکیم نے کہا ہے میں نے جو ارادہ کرلیا ہے اس کو ضرور کروں گا۔
حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [جـ، س، ع].
(٣) في [ع]: (لي).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (يريد).
(٥) منقطع؛ أبو السفر سعيد بن محمد لم يدرك أبا بكر، ومالك هو ابن مغول ثقة، وأخرجه أحمد في الزهد (ص ١١٣)، وهناد (٣٨٢)، وابن سعد ٣/ ١٩٨، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٣٢، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (٣٩)، وابن الجوزي في الثبات (ص ٩٨).