٣٧١٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن أبي موسى قال: قال عمرو بن العاص: واللَّه لئن كان أبو بكر وعمر تركا هذا المال وهو يحل لهما شيء منه، لقد غُبنا ونقص رأيهما، وأيم اللَّه (ما كانا) (١) بمغبونين ولا ناقصي الرأي، ولئن كانا امرأين يحرم عليهما من هذا المال الذي أصبنا بعدهما لقد هلكنا، وأيم اللَّه ما الوهم إلا من قبلنا (٢).حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص نے ارشاد فرمایا : خدا کی قسم ! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال کو چھوڑا ہے جبکہ اس مال کا کچھ حصہ تو ان کے لیے حلال تھا۔ تو پھر ان دونوں کو دھوکہ ہوا ہے یا ان کی رائے میں نقص تھا۔ (پھر فرمایا) خدا کی قسم ! وہ دونوں دھوکہ کھائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی وہ ناقص الرائے تھے۔ اور اگر یہ دونوں حضرات ایسے تھے کہ ان پر ہمیں ان کے بعد ملنے والا حرام تھا تو پھر یقینا ہم ہلاک ہوگئے اور خدا کی قسم ! یہ وہم ہمارے حق میں ہی ہے۔