حدیث نمبر: 37152
٣٧١٥٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن (زبيد) (١) قال: لما حضرت أبا بكر الوفاة أرسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن حفظتها: أن للَّه حقا في الليل لا يقبله في النهار، وإن للَّه حقًا في النهار لا يقبله في الليل، وإنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة، وإنما خفت موازين (من خفت موازينه) (٢) يوم القيامة باتباعهم الباطل في (الدنيا) (٣) وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل أن يكون خفيفا، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق في (الدنيا) (٤) وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه يوم القيامة إلا الحق أن يكون ثقيلا، ألم تر أن اللَّه ذكر أهل الجنة بصالح ما عملوا، [وتجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: ألا (أبلغ) (٥) هؤلاء، وذكر أهل النار بسيء ما عملوا ورد عليهم صالح ما ⦗٢٩٨⦘ عملوا] (٦)، فيقول القائل: أنا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة، وآية العذاب، فيكون المؤمن راغبا راهبا، ولا يتمنى على اللَّه غير الحق، ولا يلقي بيديه إلى التهلكة، فإن أنت حفظت قولي هذا فلا يكن غائب أحب إليك من الموت ولا بد لك منه، وإن أنت ضيعت قولي هذا فلا يكن غائب أبغض إليك منه ولن تعجزه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا : میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے یاد رکھو تو بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک حق رات کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ دن میں قبول نہیں کرتے اور بیشک ایک حق اللہ تعالیٰ کا دن کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ رات کے وقت قبول نہیں کرتے۔ اور یہ کہ جب تک فرض ادا نہ ہوں، نفل قبول نہیں ہوتے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن ہلکے ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے ہلکے ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں باطل کی پیروی کی اور باطل ان کو ہلکا محسوس ہوا۔ اور میزان کے لیے یہ بات حق ہے کہ اس میں باطل ہی رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن وزنی ہوں گے تو ان کے اعمال صرف اس وجہ سے وزنی ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں حق کی پیروی کی اور حق ان پر بھاری محسوس ہوا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں بروز قیامت حق رکھا جائے یہی بات لائق ہے کہ وہ بھاری ہوجائے۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اچھے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے میں ان لوگوں کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے برے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کے اچھے اعمال کو ان پر رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے۔ میں ان لوگوں سے بہتر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی آیت کو اور عذاب کی آیت کو ذکر فرمایا تاکہ صاحب ایمان خوف کھانے والا اور شوق رکھنے والا ہو اور خدا پر حق کے سوا کوئی تمنا نہ کرے اور اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ پڑے۔ پس اگر تم نے میری یہ بات یاد رکھی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی اور یہ موت تو ضروری ہے۔ اور اگر تم نے میری یہ بات ضائع کی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی اور تو موت کو عاجز نہیں کرسکتا۔

حواشی
(١) في [س]: (زبير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (بلغ).
(٦) سقط من: [أ] ما بين المعكوفين.
(٧) منقطع، زبيد لا يروي عن أبي بكر، وأخرجه هناد في الزهد (٤٩٦)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٠٩٨)، والخلال في السنة (٣٢٧)، والآجري في الشريعة (١٢٠٢)، وابن عساكر ٣٠/ ٤١٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37152
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37152، ترقيم محمد عوامة 35574)