٣٧١٥١ - حدثنا أبو معاوية عن (جويبر) (١) عن الضحاك قال: رأى أبو بكر الصديق طيرا (واقعا) (٢) على شجرة (٣) فقال: طوبى لكَ يا طيرَ واللَّه لوددت أني ⦗٢٩٧⦘ كنت مثلك، تقع على (الشجر) (٤) وتأكل من الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب، واللَّه لوددت (أني كنت) (٥) شجرة إلى جانب الطريق مر علي جمل فأخذني فأدخلني فاه فلاكني ثم (ازدردني) (٦) ثم أخرجني بعرا ولم أكن بشرا (٧).حضرت ضحاک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا : اے پرندے ! تجھے مبارک ہو۔ خدا کی قسم ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں تیرے جیسا ہوتا۔ تو درختوں پر بیٹھتا ہے، پھلوں کو کھاتا ہے، پھر اُڑ جاتا ہے۔ تجھے نہ حساب ہے نہ عذاب۔ خدا کی قسم ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں راستہ کے ایک جانب لگا ہوا درخت ہوتا۔ میرے پاس سے کوئی اونٹ گزرتا۔ مجھے پکڑتا اور اپنے منہ میں ڈال لیتا پھر وہ مجھے چباتا مجھے توڑتا پھر مجھے مینگنی بنا کر نکال دیتا لیکن میں انسان نہ ہوتا۔