٣٧١٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد اللَّه القرشي عن عبد اللَّه بن (عكيم) (١) قال: خطبنا أبو بكر فقال: أما بعد فإني أوصيكم بتقوى اللَّه، وأن تثنوا عليه بما هو له أهل، وأن تخلطوا (الرغبة بالرهبة) (٢) وتجمعوا ⦗٢٩٦⦘ الإلحاف بالمسألة، فإن اللَّه أثنى على زكريا وعلى أهل بيته فقال: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ [الأنبياء: ٩٠]، ثم اعلموا عباد اللَّه، أن اللَّه قد ارتهن بحقه أنفسكم، وأخذ على ذلك مواثيقكم، واشترى منكم القليل الفاني بالكثير الباقي، وهذا كتاب اللَّه فيكم لا تفنى عجائبه و (لا) (٣) يطفأ نوره، فصدقوا (بقوله) (٤)، وانتصحوا (كتابه) (٥)، واستبصروا فيه ليوم الظلمة، فإنما خلقكم للعبادة، ووكل بكم الكرام الكاتبين يعلمون ما تفعلون، ثم اعلموا -عباد اللَّه- أنكم تغدون وتروحون في أجل قد غيب عنكم علمه، فإن استطعتم أن تنقضي الآجال وأنتم في عمل اللَّه فافعلوا، ولن تستطيعوا ذلك إلا باللَّه، فسابقوا في مهل آجالكم قبل أن تنقضي آجالكم فيردكم إلى أسوأ أعمالكم، فإن أقواما جعلوا آجالهم لغيرهم ونسوا أنفسهم فأنهاكم أن تكونوا أمثالهم، فالوحاء الوحاء والنجاء النجاء فإن وراءكم طالبا حثيثا (مَرُّة) (٦) سريع (٧).حضرت عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا : اما بعد ! بیشک میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اور اس بات کی تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ کی ثنا اس طرح کرو جیسے وہ ثنا کا اہل ہے اور یہ کہ تم خوف کو شوق کے ساتھ ملائے رکھو۔ اور یہ کہ تم خوب چمٹ کر مانگنے کو سوال کے ساتھ جمع کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا اور ان کے گھر والوں کی تعریف کی ہے۔ فرمایا : {إنَّہُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِینَ } اللہ کے بندو ! پھر یہ بات جان لو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں کو اپنے حق کے عوض رہن رکھا ہے اور اس پر تم سے پختہ عہد لیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم سے فنا ہونے والی تھوڑی چیز کے بدلہ میں باقی رہنے والی کثیر چیز دے کر تم سے خریداری کی ہے۔ یہ تم میں اللہ کی کتاب ہے۔ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے اور اس کا نور بند نہیں ہوتا۔ پس تم اس کے کلام کی تصدیق کرو۔ اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو۔ اور اندھیرے کے دن میں اس سے بصیرت حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں صرف عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور کراماً کاتبین کو تم پر مقرر فرمایا ہے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ اللہ کے بندو ! پھر یہ بات جان لو۔ تم لوگ ایک مہلت میں صبح وشام گزار رہے ہو جس کا علم تم سے غائب ہے۔ اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ مہلتیں اس طرح سے ختم ہوں کہ تم اللہ کے کام میں ہو۔ تو پس تم یہ کام کرو۔ اور یہ کام تم اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں کرسکتے ہو۔ پس تم اپنی مہلت کے موجود لمحوں میں جلدی کرو۔ قبل اس کے کہ تمہاری عمریں پوری ہوجائیں پھر تمہیں تمہارے برے اعمال کی طرف لوٹا دیا جائے۔ بیشک کچھ لوگوں نے اپنے اوقات کو دوسروں کے لیے کردیا اور اپنی جانوں کو بھول گئے لیکن میں تمہیں ان جیسا بننے سے منع کرتا ہوں۔ پس جلدی کرو۔ پس جلدی کرو۔ النجاء النجاء کیونکہ تمہارے پیچھے ایک تیز طالب ہے جس کا گزرنا بہت تیز ہے۔