حدیث نمبر: 37145
٣٧١٤٥ - حدثنا بن علية عن أيوب عن عكرمة قال: قال العباس: لأعلمن ما (بقاء) (١) رسول اللَّه ﷺ فينا فقلت يا رسول اللَّه لو اتخذت عريشًا؟ فكلمت الناس فإنهم قد آذوك، قال: "لا أزال بين أظهرهم يطؤون عقبي، وينازعوني ردائي ويصيبني غبارهم، حتى يكون اللَّه يريحني منهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ضرور بالضرور بتاؤں گا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے درمیان رہنا کیسا تھا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ شامیانہ بنالیں پھر لوگوں سے با تیں کریں۔ کیونکہ لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں مسلسل ان کے درمیان ہی رہوں گا۔ یہ لوگ میری ایڑیاں روندتے رہیں گے اور میری چادر کے اندر میرے ساتھ جھگڑتے رہیں گے۔ اور مجھے ان کی گرد لگتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان سے آرام دے دے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (بقي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الدارمي (٧٥)، وأخرجه البزار (١٢٩٣) من حديث عكرمة عن ابن عباس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37145، ترقيم محمد عوامة 35567)