حدیث نمبر: 37144
٣٧١٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عمرو بن ميمون عن عبد اللَّه بن ربيعة عن عبيد بن خالد السلمي قال: (آخى) (١) رسول اللَّه ﷺ بين رجلين، فقتل أحدهما ومات الآخر بعده، فصلينا عليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما (قلتم) (٢)؟ " قالوا: دعونا اللَّه له: اللهم ألحقه بصاحبه، قال رسول اللَّه ﷺ: "فأين صلاته بعد (صلاته) (٣) وصيامه بعد (صيامه) (٤) وأين عمله بعد عمله؟ - (٥) شك في الصوم- والعمل الذي بينهما كما بين السماء والأرض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن خالد سلمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ پھر ان میں سے ایک (راہ خدا میں) قتل ہوا اور دوسرا اس کے بعد مرا۔ پھر ہم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے کیا کہا ہے ؟ “ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے کہا : ہم نے اس کے لیے دعا کی ہے کہ اے اللہ ! اس کو اس کے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اس کے (پہلے کے) بعد اس کی نمازیں کہاں جائیں گی ؟ اور اس کے روزوں کے بعد اس کے روزے کہاں جائیں گے۔ اور اس کے عمل کے بعد اس کا عمل کہاں جائے گا ؟ “ راوی کو روزے کے بارے میں شک ہے۔ ” ان دونوں کے درمیان جو عمل ہے وہ زمین و آسمان کے درمیان کی طرح ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (آي).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س]: (صلاتي).
(٤) في [س]: (صيامي).
(٥) في [هـ]: زيادة (و).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد اللَّه بن ربيعة ثقة، أخرجه أحمد (١٧٩٢١)، وأبو داود (٢٥٢٤)، والطيالسي (١١٩١)، والنسائي ٤/ ٧٤، والبيهقي ٣/ ٣٧١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٣٩٥)، وابن المبارك في الزهد (١٣٤١)، وابن جرير في مسند ابن عوف من تهذيب الآثار (٦٨٠)، والطبراني في الأوسط (٤٣٥٨)، والبيهقي في الزهد (٦٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37144، ترقيم محمد عوامة 35566)