مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧١٣٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم عن (عبيدة) (١) عن عبد اللَّه قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "اقرأ علي القرآن"، (قال) (٢): قلت: يا رسول اللَّه أقرأ عليك وعليك أنزل؟ قال: "إني أشتهي أن أسمعه من غيري"، قال: فقرأت ⦗٢٩١⦘ النساء حتى إذا بلغت: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: ٤١]، رفعت رأسي أو غمزني رجل إلى جنبي، فرأيت دموعه تسيل (٣).حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا : ” تم مجھے قرآن سناؤ۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی سے قرآن سنوں۔ راوی کہتے ہیں پس میں نے سورة نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا … یا مجھے پہلو میں بیٹھے آدمی نے متوجہ کیا … تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔