مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
حدیث نمبر: 37131
٣٧١٣١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير ومحمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: حدثني (ابن) (٢) كعب (بن مالك) (٣) عن أبيه قال: ⦗٢٨٩⦘ قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل المؤمن (كمثل) (٤) الخامة من الزرع (تفيئها) (٥) الريح (تصرعها) (٦) مرة وتعدلها أخرى حتى (تهيج) (٧)، ومثل الكافر كمثل الأرزة (المجذية) (٨) على أصلها، لا (يفيئها) (٩) شيء حتى يكون انجعافها مرة واحدة" (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال، کچی کھیتی کی سی ہے کہ ہوائیں اس کو حرکت دیتی ہیں، کبھی اس کو ٹیڑھا کرتی ہیں اور کبھی اس کو سیدھا کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ زرد ہوجاتی ہے اور کافر کی مثال، اس صنوبر کی سی ہے جو زمین میں موجود اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی شے اس کو حرکت نہیں دے سکتی یہاں تک کہ وہ ایک ہی مرتبہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔
حواشی
(١) في [ع]: (سعيد).
(٢) زيادة من مسند ابن أبي شيبة (٤٩٧)، وقد رواه عن المصنف بها الإمام مسلم (٢٨١٠)، والطبراني ١٩/ (١٨٥).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [أ، ب]: (لعبتها)، وفي [ع]: (رغبها).
(٦) في [ع]: (تصرعه).
(٧) في [ع]: (يهيج).
(٨) أي: الثابتة في الأرض، وفي [أ، ب]: (المجذئة)، وفي [س]: (المخدمة)، وفي [ع]: (المجدبة).
(٩) في [أ، س]: (يعلها)، وفي [ب، ع]: (يغلبها).