حدیث نمبر: 37127
٣٧١٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن أبي وكيع عن أبيه قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [المائدة: ٣]، قال: يوم الحج الأكبر، قال: فبكى عمر، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ما يبكيك؟ " قال: يا رسول اللَّه، أبكاني أنا كنا في زيادة من ديننا، (فأما إذ كمل) (١) فإنه لم يكمل (قط شيء) (٢) إلا نقص، قال: "صدقت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہارون بن ابی وکیع، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ } نازل ہوئی راوی کہتے ہیں یہ حج اکبر کا دن تھا۔ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تمہیں کس بات پر رونا آرہا ہے ؟ “ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بات نے رلا دیا ہے کہ ہم پہلے اپنے دین میں زیادتی میں (امیدوار) ہوتے تھے۔ پس جب یہ دین کامل ہوگیا تو بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز کامل ہوتی ہے تو پھر اس میں نقص آنے لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سچ کہہ رہے ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [ع]، وفي [هـ]: (إذا).
(٢) في [جـ]: (شيء قط).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37127
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو وكيع عنترة بن عبد الرحمن الشيباني تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37127، ترقيم محمد عوامة 35549)